Sunday, December 7, 2014

کوئی کوئی ملے اگر تو یوں لگے

کبھی کبھی
کہیں کہیں
کوئی کوئی ملے اگر تو یوں لگے
کہ جیسے آس پاس آفتاب سے چمک اٹھیں
بہارِ دل میں جیسے کچھ گلاب سے مہک پڑیں
یہی ہیں تو-----
زمین کا نمک ہیں جو!
زہے نصیب دوستو!
اگر یہ تم سے بن پڑے
تم ان کے ہم نشیں رہو
کہ ان کے جو جلیس ہیں
کبھی شقی نہیں رہے!
یہ لوگ کم سہی مگر
تلاش پھر بھی شرط ہے
یہ مل ہی جائیں گے تمہیں
ہجوم اہلِ ذکر میں
کسی نماز میں۔یہاں
کسی محاز پر۔۔۔۔وہاں

No comments:

Post a Comment