کبھی کبھی
کہیں کہیں
کوئی کوئی ملے اگر تو یوں لگے
کہ جیسے آس پاس آفتاب سے چمک اٹھیں
بہارِ دل میں جیسے کچھ گلاب سے مہک پڑیں
یہی ہیں تو-----
زمین کا نمک ہیں جو!
زہے نصیب دوستو!
اگر یہ تم سے بن پڑے
تم ان کے ہم نشیں رہو
کہ ان کے جو جلیس ہیں
کبھی شقی نہیں رہے!
یہ لوگ کم سہی مگر
تلاش پھر بھی شرط ہے
یہ مل ہی جائیں گے تمہیں
ہجوم اہلِ ذکر میں
کسی نماز میں۔یہاں
کسی محاز پر۔۔۔۔وہاں
No comments:
Post a Comment