Saturday, November 15, 2014

رشتے کیوں بکھرتے ہیں

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے
اندھیرے شام سے پہلے نگاہوں میں اترتے ہیں
چمکتی دھوپ کا منظر بہت تاریک لگتا ہے
گھنے پیڑوں کے سائے بھی
زمیں سے روٹھ جاتے ہیں
کہ صبحِ نو بہاراں بھی خزاں معلوم ہوتی ہے
کبھی ایسا بھی ہوتاہے
کہ حرف و صورت کے رشتے 
زباں‌سے ٹوٹ جاتے ہیں
نہ سوچیں ساتھ دیتی ہیں
نہ بازو کام کرتے ہیں
رگ و پے میں لہو بھی منجمد محسوس ہوتا ہے
چراغِ جسم و جاں کی لو دھواں معلوم ہوتی ہے
مگر جب ایسا ہوتا ہے
تو آنکھوں کے جزیرے سیلِ غم میں ڈوب جاتے ہیں
شجر ہوتا ہے رستے میں نہ سائے کا نشاں کوئی
زمیں رہتی ہے قدموں میں نہ سر پر آسماں‌کوئی
شکستہ دل کے خانوں میں
بس اک احساس ہوتا ہے
یہ رشتے کیوں بکھرتے ہیں
جو اپنے لوگ ہوتے ہیں
وہ ہم سے کیوں بچھڑتے ہیں

No comments:

Post a Comment