تعلق تلخ ہو تو بھولنا آسان ہوتاہے
وہ پھولوں سا ملائم پیار
جو دل گدگداتا تھا
وہ کیسا تتلیوں جیسا تعلق تھا؟
کہ جیسے عکس کا شیشے سے
اور شیشے کا سورج کی شعاعوں سے
شعاع ِ مہر کا برگ و ثمر سے
اور ثمر کا مئے سے رشتہ ہے
کچھ ایسا ہی تعلق تھا
ہمارے درمیاں
وہم و گماں آتے تو تھے
موہوم ہوتے تھے
پھر اس کے بعد وہ موہوم سائے
سرسرائے
جس طرح کھیتوں کی سُوکھی گھاس میں
سانپوں کے بچے سرسراتے ہیں
وہ بچے پل چکےہیں
اور ان کے پھن نکل آئے ہیں
وہ پھنکارتے ہیں اب
تعلق وہ جو سورج کی طرح
پرجوش ہوتا تھا
وہ انگارے نہیں تھے آگ تھی
اس میں کسی آتش کدے جیسا تقدس تھا
یہ تخمینوں کی زد میں
ظن کی سُوکھی کوکھ میں رکھے
یہ انگارے
یہ انگارے سلگتے ہیں
اور ان پہ اشک گرجائیں
تو تیزابی دھواں اُٹھتاہے
اور تکلیف ہوتی ہے
No comments:
Post a Comment