میرے ویران کمرے میں
میں اکثر سوچتا ہوں کہ
اگر وہ لوٹ آئے تو
مجهے دیکهے تو پهر کیا ہو
میری آنکھوں میں جگنوں ہوں
میرے چہرے پہ کرب ہو
اور ساتھ کچھ کتابیں ہوں
محبت کے فسانے ہوں
کچھ زخمی تحریریں ہوں
کہ جن میں لفظ روتے ہوں
جنہیں وہ پڑهنا چاہے تو
ہر اک لفظ کے لہجے سے
نئے امکان ظاہر ہوں مگر
کاش اس لمحے
وہ چپکے سے یہ کہہ دے
جو کہنا ہے وہ کہہ ڈالو
کی مجهے تهوڑی سی فرصت ہے
تو میں دهیرے سے کہہ دوں گا
مجهے تم سے محبت ہے
مجهے تم سے محبت ہے
No comments:
Post a Comment