Saturday, November 15, 2014

میرے ویران کمرے میں

میرے ویران کمرے میں
میں اکثر سوچتا ہوں کہ
اگر وہ لوٹ آئے تو
مجهے دیکهے تو پهر کیا ہو
میری آنکھوں میں جگنوں ہوں
میرے چہرے پہ کرب ہو
اور ساتھ کچھ کتابیں ہوں
محبت کے فسانے ہوں
کچھ زخمی تحریریں ہوں
کہ جن میں لفظ روتے ہوں
جنہیں وہ پڑهنا چاہے تو
ہر اک لفظ کے لہجے سے
نئے امکان ظاہر ہوں مگر
کاش اس لمحے
وہ چپکے سے یہ کہہ دے
جو کہنا ہے وہ کہہ ڈالو
کی مجهے تهوڑی سی فرصت ہے
تو میں دهیرے سے کہہ دوں گا
مجهے تم سے محبت ہے
مجهے تم سے محبت ہے

No comments:

Post a Comment