Saturday, November 15, 2014

ظلم ایک فخر بن چکا ہے


ظلم ایک فخر بن چکا ہے، شریعت کا علم دنیا کےلئے پڑھا جاتا ہے نہ کہ دین کےلئے، بارش کے باوجود گرمی ہوتی ہے، صرف جان پہچان کے لوگوں کو سلام کیا جاتا ہے، ”نبی ﷺ کے فرمان کا مفہوم ہے جس کو تم جانتے ہو اس کو بھی سلام کرو اور جس کو تم نہیں بھی جانتے اس کو بھی تم سلام کرو“۔ تجارت اور کاروبار میں عورت مرد کے ساتھ شرکت کرے گی، شرعی سزائیں ختم ہو چکی ہیں، گانے والی عورتوں کی تعظیم کی جاتی ہے، عورتیں اور مرد ایک دوسروں کی نقالی کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھائی جاتی ہیں۔ شریف لوگوں کا دنیا میں رہنا دوبھر ہو چکا ہے۔ تہمت درازی عام ہو چکی ہے، دل ویران ہو چکے ہیں، انصاف بک رہا ہے۔ دوست، دوست کا دشمن بن چکا ہے۔ امانتوں میں خیانتیں ہو رہی ہیں، زلزلے کے جھٹکے لگ رہے ہیں، قرآن کریم کے نسخوں کو نقش و نگار سے آراستہ کر کے گھر میں اور اس کی تلاوت کرنے اور خیر و برکت کےلئے رکھا جاتا ہے۔ دین کو بیچ کر دنیا کو جمع کیا جارہا ہے
اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ
لوگوں کا حساب (اعمال کا وقت) نزدیک آپہنچا ہے اور وہ غفلت میں (پڑے اس سے) منہ پھیر رہے ہیں-
( 1 ) انبیاء - الآية 1

No comments:

Post a Comment