ایک بازار ایک کہانی
آج بھرے بازار میں اُسے دیکھا۔ نہ جانے اُس میں ایسا کیا جادُو تھا کہ ایک لمحے کو اُس سے اپنی نظریں نہ ہٹا پایا۔ ایک مُکمل حُسن کا مُجسمہ، ایک تراشا ہوا سراپا اور اُس کے ہوا میں لہراتے کالے گھنے ریشمی بال، جو کبھی اُس کے چہرے کو تو کبھی اُس کی گردن کو چھُو رہے تھے۔
بس مہبوت ہو کر اُسے دیکھتا رہا۔ گو کہ وہ سُرخ و سفید رنگت کی مالک نہ تھی، سیاہ فارم تھی۔ لیکن اُس کی جلد اِتنی شفاف اور چمکدار تھی، کہ جب دھوپ کی تمازت سے پسینے کے قطرے اُس کی گردن پر دھاریاں بنا کر گِرتے تو وہ مزید جاذبِ نظر لگتی۔
اور میرا دماغ اِسی شش و پنج میں مُبتلا ہو کر سوچتا رہا کہ کیا کوئی اِتنا پُر کشش اور حسین بھی ہوسکتا ہے؟
میں نے زِندگی میں ایک جُملہ بُہت سُنا تھا ’’پہلی نظر کی پہلی محبّت‘‘۔ آج اِس جُملے پر یقین سا آگیا۔
جب اُس کے حُسن سے ذرا نظر ہٹی تو دیکھا، یہ کیا وہ تو یہاں بکنے لائی گئی ہے۔ اُس کا کوئی مالک تھا جو اُسے بیچنا چاہتا تھا اور وہاں اُس کیلئے بولیاں لگ رہی تھیں۔
’’اوہ میرے خُدایا! یہ کیا؟ کیا میں مِصر کے دور میں ہُوں؟
کوئی یہاں بِک رہا ہے اور کوئی خرید رہا ہے۔‘‘
یک دم میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھاتا محسوس ہُوا۔ اور اُسے اپنا بنانے کی طلب اِنتہا پر پُہنچ گئی۔ ہاتھ غیر اِرادی طور پر جیب میں چلا گیا۔ وہاں فقط چند سِکّے میرا مُنہ چڑا رہے تھے۔ مُجھے وہ دور جاتی ہوئی محسوس ہوئی۔ میں لاچار اُسے گُنواتے دیکھتا رہا۔ اور میں کر بھی کیا سکتا تھا؟
وہاں موجود لوگوں کی بولیاں ہزاروں میں نہیں لاکھوں میں تھیں اور مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی گرم لوہا میرے کانوں میں اُنڈیل رہا ہے۔ ہر کوئی بڑھ چڑھ کے بولی لگا رہا تھا۔
اور میری غربت میرے ساتھ کھڑی میری لاچاری پر کِھلکِھلا کے ہںس رہی تھی۔ آج عجیب وحشت کے اِحساس نے رُوح کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ دِل نے کہا کاش کہیں ڈاکہ ڈال لے، کہیں سے پیسے چوری کرلے۔ لیکن اُسے ہاتھ سے نہ جانے دے۔
بے اختیار دِل سے نِکلا: ’’ہائے! بے مائیگی، لا چاری اور ظالم غُربت تُو نے مُجھے کبھی کوئی خوشی نصیب نہ کی۔‘‘
دولتمندوں کی دولت پر رشک آنے لگا اور ساتھ ساتھ حسد بھی۔
میں اُسے عجیب سی کسَک کے ساتھ دیکھتا رہا۔ وہاں بس اِتنی دیر مزید رُکنا چاہتا تھا کہ دیکھ سکوں وہ کون سا خوش نصیب اِنسان ہے جو اُسے خریدے گا، وہ جس کی ہو جائے گی۔
بالآخر ایک نوجوان سب سے زیادہ بولی لگا کر اُسے خریدنے میں کامیاب ہوگیا۔ اُس حُسنِ مجسم کو پاکے اُس کی خُوشی دیدنی تھی اور میرا اِضطراب نا قابلِ بیان۔
اپنی آنکھوں سے اُس کو کِسی اور کے ساتھ جاتا دیکھ کر دِل خون کے آنسو رویا اور زُبان سے اُف تک نہ کہا۔
اگر آئے چند کلمات زُبان پر تو فقط اِتنے، ’’کاش! میرے پاس دولت کے انبار ہوتے تو اِس سیاہ مجسم گھوڑی کی لگامیں آج میرے ہاتھ ہوتیں۔‘‘
No comments:
Post a Comment