Friday, November 14, 2014

تجھے میری دعائیں تھام لیتی ہیں

وہ کہتی ہے، تمہاری کچھ دعا بھی تو کوئی ہوگی
میں کہتا ہوں، جہاں تم ہو یہ راتیں بھی وہیں ہوتیں

عجیب اک معنویت سی پلٹ آتی نظاروں میں
تمیہیں ہم دیکھتے بھی اور باتیں بھی وہیں ہوتیں

ستارے دیکھنے آتے مجھے تیری محبت میں
وہ کہتی ہے، ستارے اور سپنے جھوٹ ہوتے ہیں

وہ کہتی ہے، اب روؤں تو آنسو چھبنے لگتے ہیں
میں کہتا ہوں، کسی شاعر سے آنکھیں مانگ سکتی ہو

وہ بولی، آس کی فصلیں کئی بیمار ہیں دل میں
میں بولا، جس طرح ممکن ہو ساون کو بلا لاؤ

وہ بولی، میں ادھورے قیدیوں کی صف میں شامل ہوں
میں بولا، اس کا مطلب ہے کہ آزادی نہیں ممکن

وہ بولی، کچھ لکھوں تو انگلیوں سے خون رستا ہے
میں بولا، میں تو ایسے میں بھی اپنے دل سے لکھتا ہوں

وہ بولی، درد نے اعصاب کو مردہ بنا ڈالا
میں بولا، عشق کی بےچینیوں سے زندگی کر لو

وہ کہتی ہے، اگر سب راستے مسرود ہو جائیں
میں کہتا ہوں، تو پھر ہم آپ تک محدود ہوجائیں

وہ کہتی ہے، اگر بے چینیاں بے سود ہوجائیں
میں کہتا ہوں، فنا فی النار ہست و بود ہوجائیں

وہ کہتی ہے، اگر ویرانیاں رستے میں آجائیں
میں کہتا ہوں، ہزاروں غم بہت سستے میں آجائیں

وہ کہتی ہے، تمیں تختی پہ اپنے حرف لکھ دوں تو
میں کہتا ہوں، تیری باتیں مرے بستے میں آجائیں

وہ کہتی ہے، بلائیں جب بھی مرا نام لیتی ہیں
میں کہتا ہوں، تجھے میری دعائیں تھام لیتی ہیں

No comments:

Post a Comment