Sunday, December 7, 2014

دریچے سے جھانکتی وه لڑکی

دریچے سے جھانکتی وه لڑکی
عجیب دکھ سے بھری ھوئی ھے
کے اس کے آنگن میں پھول پر
اک نیلی تتلی مری ھوئی ھے
کبھی اذانوں میں کھوئی کھوئی
کبھی نمازوں میں روئی روئی
وه ایسے دنیا کو دیکھتی ھے
که جیسے اس سے ڈری ھوئی ھے
درود سے مهکی مهکی سانسیس
وظیفه پڑھتی ھوئی وه آنکھیں
که اک شمعِ مید ان میں
کئ برس سے پڑی ھوئی ھے
وه دکھ کی چادر میں لپٹی لپٹی
وه کالے کپڑوں میں سمٹی سمٹی
محبت اس نے بھی کسی سے شائد
میری طرح ھی کی ھوئی ھے

No comments:

Post a Comment