دریچے سے جھانکتی وه لڑکی
عجیب دکھ سے بھری ھوئی ھے
کے اس کے آنگن میں پھول پر
اک نیلی تتلی مری ھوئی ھے
کبھی اذانوں میں کھوئی کھوئی
کبھی نمازوں میں روئی روئی
وه ایسے دنیا کو دیکھتی ھے
که جیسے اس سے ڈری ھوئی ھے
درود سے مهکی مهکی سانسیس
وظیفه پڑھتی ھوئی وه آنکھیں
که اک شمعِ مید ان میں
کئ برس سے پڑی ھوئی ھے
وه دکھ کی چادر میں لپٹی لپٹی
وه کالے کپڑوں میں سمٹی سمٹی
محبت اس نے بھی کسی سے شائد
میری طرح ھی کی ھوئی ھے
No comments:
Post a Comment