Sunday, December 7, 2014

اداس لمحو اجاڑ راتو

اداس لمحو
اجاڑ راتو
میرے تخیل سے دور بھاگو
یہ لوگ جو میرے رہبر ہیں
یہ میری سوچوں سے بےخبر ہیں
یہ مجھ سے کہتے ہیں
تتلیوں پر
جگنوؤں پر
کتاب لکھوں
کہ چاہتوں کا نصاب لکھوں
انھیں میں کیسے بتاؤں کہ اب
بہار موسم گزر چکا ہے
اداس بے کل خزاں کا موسم
ہمارے دل میں اتر چکا ہے
ہمارے قہقوں کا
خوشبوؤں کا
وہ دورکب کا گزر چکا ہے
اب تو جینا وبال اپنا
نہ روپ و رنگ و جمال اپنا
تھا جس کو تھوڑا خیال اپنا
وہ شخص کب کا بچھڑ چکا ہے

No comments:

Post a Comment