Sunday, December 7, 2014

سکون

سکون

ہم ساری عمر اسی آس امید پہ گزار دیتے ہیں. کہ آج محنت کر لو کل کو آرام و سکون میسر آ ہی جائے گا.

مگر زندگی کے جنگل میں کبھی دھوپ ہمارا امتحان لیتی ہے اور کبھی بارش ہمارا صبر آزماتی ہے اور سکون بس اک امید اور اک آس کی طرح آسمان کے بادل کی طرح دور بہت دور رہتا ہے.

مگر ہم اپنے دلوں کو آرزوں سے خالی نہی کرتے.

جس دن آرزو سے خالی ہو جائے گا دل.

اسی دن سکون ہماری مٹھی میں ہو گا.

No comments:

Post a Comment