Sunday, December 7, 2014

دوسرا قرآن

کسی غیر مسلم بزرگ نے نام نہاد مسلمانوں کی ایک جماعت سے قرآن کے ایک نسخے کی فرمائش کی۔ کار ثواب میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے لوگوں نے انہیں ان کی زبان میں ترجمہ شدہ قرآن کا ایک نسخہ مہیا کرا دیا۔

چند روز بعد موصوف واپس آئے اور کہنے لگے کہ مجھے یہ والا نہیں بلکہ دوسرا قرآن دیجئے!

لوگوں نے کہا قرآن تو ایک ہی ہے اور اسی کے نسخے بلا کم و کاست جوں کے توں بے شمار دستیاب ہیں پر کوئی دوسرا قرآن موجود نہیں۔ وہ تو بائبل وغیرہ کے ساتھ ایسا ہے کہ اس کے کئی قسم کے نسخے دستیاب ہیں۔

بوڑھے نے کہا نہ، آپ لوگ کچھ چھپا رہے ہیں۔ دوسرا قرآن ہے ضرور!

لوگوں کو بڑی حیرت ہوئی کہ اتنے وثوق سے یہ بوڑھا اس بات پر کیوں اڑا ہے اور دوسرے قرآن کے وجود پر کیوں بضد ہے۔

آخر کار تھوڑی دیر بعد بوڑھے نے کہا کہ اس قرآن میں تو ساری باتیں بہت پاکیزہ اور درست ہیں۔ اس کو ماننے والے تو بہت اچھے لوگ ہوتے ہوں گے۔ ان کا معاشرہ تو انتہائی سلجھا ہوا ہوتا ہوگا۔ پر مجھے وہ قرآن چاہئے جس پر آپ لوگ عمل پیرا ہیں۔

وہ نسخہ کہاں ہے؟؟

No comments:

Post a Comment