Sunday, December 7, 2014

فنا کا اسمِ اعظم

فنا کا اسمِ اعظم

انا جب تک
فنا کے ہاتھ پر بیعت نہیں کرتی
نمازِ عشق سے دل کی جبیں محروم رہتی ہے

نگاہیں ایک چہرے سوا
کچھ دیکھنا چاہیں
تو صدیوں تک
آنکھوں پر عطا کا در نہیں کھلتا
کسی منظر کے اندر دوسرا
منظر نہیں کھلتا

کہ یہ رستہ وہ ہے جس پر
وفا کی خاک میں جب
ھجر کےآنسو اترتے ہیں
تو حرفِ بے ہنر کو
درد کی سوغات ملتی ہے
دعاۓ شوق کی وارفتگی کو
باریابی کی فقط اک رات ملتی ہے

مگر کس کو خبر تب تک
طلب ہی وصل کی معدوم ہوجاۓ
فنا کا اسمِ اعظم روح کو معلوم ہو جاۓ

No comments:

Post a Comment