Sunday, December 7, 2014

محبت سیکھ کر کرنا

محبت سیکھ کر کرنا
کہ بن سیکھے محبت کا سفر دشوار ہوتاہے
گریباں تار ہوتاہے
کبھی انکار ہوتاہے
کبھی اقرار ہوتاہے
محبت سیکھ کر کرنا
کہ بن سیکھے محبت تو سرابوں کی کہانی ہے
دکھوں کی راج دھانی ہے
کہ کل بن جائے کا بادل
یہ دریا کا وہ پانی ہے
محبت سیکھ کر کرنا
کہ بن سیکھے محبت تو عذابِ زندگی ٹھہری
سراب زندگی ٹھہری
نا ہو تکمیل جس کی وہ کتابِ زندگی ٹھہری
محبت سیکھ کر کرنا

No comments:

Post a Comment