Monday, December 8, 2014

کبھی چاند راہوں میں کھو گیا،کبھی چاندنی ہی بھٹک گئی

کبھی چاند راہوں میں کھو گیا،کبھی چاندنی ہی بھٹک گئی
میں چراغ وہ کہ ُ بجھا ہوا،مری رات کیسے چمک گئی
میری داستاں کا عروج تھا،تیری نرم پلکوں کی چھاؤں میں
ُتجھے جاگنا مرے ساتھ تھا،تیری آنکھ کیسے جھپک گئی
کبھی ہم ملے بھی تو کیا ملے،وہی دوریاں،وہی فاصلے
نہ کبھی ہمارے قدم بڑھے،نہ کبھی تمہاری جھجھک گئی
تجھے ُ بھول جانے کی کوششیں کبھی کامیاب نہ ہو سکیں
تری یاد شاخِ ِ گلاب ہے،جو ہوا چلی تو لچک گئی

No comments:

Post a Comment