دسمبر پھر سے لوٹا ہے
وہی افسردگی لے کر
ازل سے جو مقدر ہے
وفا کے سوگواروں کی
جو پچھلے سال بھی ہمدم
تھی پچھلے سال کے جیسی
خزاں کی دھند میں لپٹا
وہ سورج پھر نہیں نکلا
انا کے خول میں سمٹا, ہوا پیکر
نہیں پِگلا
نہیں معلوم اسکو پر
مجھے احساس ہے اسکا
مرے بس میں اگر ہوتا
یہ لمحے بھول جاتا میں
مگر میں بولتا کیسے
یہی وہ پل تھے جب موسم
محبت کے
عنایت اور چاہت کے
بنے تھے پل جو فرقت کے
عداوت اور نفرت کے
زمانہ ہو گیا لیکن
تصور میں مرے ابتک
وہ پل مخفوظ ہیں ایسے
میں ان بے چین آنکھوں سے
جہاں تک دیکھ سکتا ہوں
تو کشتِ زیست میں اپنی
دکھائی دشت دیتا ہے
بلا کا سرد موسم میں
لگا ہے سوچ پر پہرا
کوئی بھی اب سوا اس کے
خیالوں میں نہیں رہتا
مری تکمیلِ ہستی کو
ضرورت تھی کبھی اسکی
کہ میری زیست کا حاصل
محبت تھی کبھی اسکی
مگر اب در بدر پھرنا
ٹھٹھرتی شام میں تنہا
کسی کی کھوج میں رہنا
کسی کو سوچ کر ہنسنا
کسی کی یاد میں رونا
دسمبر میں مقدر نے
ہمارے لکھ دیا جیسے
Monday, December 8, 2014
دسمبر پھر سے لوٹا ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment