Monday, December 8, 2014

دسمبر پھر سے لوٹا ہے

دسمبر پھر سے لوٹا ہے
وہی افسردگی لے کر
ازل سے جو مقدر ہے
وفا کے سوگواروں کی
جو پچھلے سال بھی ہمدم
تھی پچھلے سال کے جیسی
خزاں کی دھند میں لپٹا
وہ سورج پھر نہیں نکلا
انا کے خول میں سمٹا, ہوا پیکر
نہیں پِگلا
نہیں معلوم اسکو پر
مجھے احساس ہے اسکا
مرے بس میں اگر ہوتا
یہ لمحے بھول جاتا میں
مگر میں بولتا کیسے
یہی وہ پل تھے جب موسم
محبت کے
عنایت اور چاہت کے
بنے تھے پل جو فرقت کے
عداوت اور نفرت کے
زمانہ ہو گیا لیکن
تصور میں مرے ابتک
وہ پل مخفوظ ہیں ایسے
میں ان بے چین آنکھوں سے
جہاں تک دیکھ سکتا ہوں
تو کشتِ زیست میں اپنی
دکھائی دشت دیتا ہے
بلا کا سرد موسم میں
لگا ہے سوچ پر پہرا
کوئی بھی اب سوا اس کے
خیالوں میں نہیں رہتا
مری تکمیلِ ہستی کو
ضرورت تھی کبھی اسکی
کہ میری زیست کا حاصل
محبت تھی کبھی اسکی
مگر اب در بدر پھرنا
ٹھٹھرتی شام میں تنہا
کسی کی کھوج میں رہنا
کسی کو سوچ کر ہنسنا
کسی کی یاد میں رونا
دسمبر میں مقدر نے
ہمارے لکھ دیا جیسے

No comments:

Post a Comment