Sunday, December 7, 2014

برائے فروخت

برائے فروخت

روح چاہیے تم کو
یا بدن خریدو گے
موت سب سے سستی ہے

سامنے کے شیلفوں میں
رنگ رنگ آنکھیں ہیں
ساتھ نیند رکھی ہے
خواب اس طرف کو ہیں

سب سے آخری صف میں
حسن کی کتابیں ہیں
خیر کے فسانے ہیں

فرسٹ فلور پر سائنس
میگزین فیشن کے
اور علم دولت ہے
آج کی ضرورت ہے
سب سے بیش قیمت ہے

فرش پر جو رکھا ہے
دین ہے تصوف ہے

فلسفہ ہے منطق ہے
باعثِ تپ دق ہے

ڈسک کاؤنٹر کے پاس
شیش داں میں رکھی ہیں
جیسے قیمتی چیزیں
آسماں میں رکھی ہیں

آسمان والا بھی
کیا یہاں پہ ملتا ہے
کیسے بھاؤ بکتا ہے
پہلے خوب چلتا تھا
لوگ لینے آتے تھے
اب خدا نہیں بکتا

جانے کس زمانے سے
اس زماں میں آئے ہو
یہ جہاں نہیں صاحب
تم دکاں میں آئے ہو

No comments:

Post a Comment